(۳۷۷۶۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُبَیْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا أَنْ دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، أَنَخْتُ رَاحِلَتِی ، ثُمَّ حَلَلْتُ عَیْبَتِی ، وَلَبِسْتُ حُلَّتِی ، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَمَانِی النَّاسُ بِالْحَدَقِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِجَلِیسٍ لِی : یَا عَبْدَ اللہِ ، ہَلْ ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِی شَیْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ذَکَرَک بِأَحْسَنِ الذِّکْرِ ، قَالَ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَہُ فِی خُطْبَتِہِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ سَیَدْخُلُ عَلَیْکُمْ مِنْ ہَذَا الْفَجِّ ، أَوْ مِنْ ہَذَا الْبَابِ مِنْ خَیْرِ ذِی یَمَنٍ ، أَلاَ وَإِنَّ عَلَی وَجْہِہِ مَسَحَۃُ مَلَکٍ ، قَالَ جَرِیرٌ : فَحَمِدْتُ اللَّہَ عَلَی مَا أَبْلاَنِی۔
(٣٧٧٦٢) حضرت جریربن عبداللہ سے روایت ہے : فرماتے ہیں : جب میں مدینہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر میں نے اپنا معمولی لباس اتارا اور اپنی عمدہ پوشاک پہنی اور میں اندر آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔ فرماتے ہیں : میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے معاملہ میں کسی بات کا ذکر فرمایا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارا بہت اچھا ذکر کیا ہے۔ فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اس دوران ارشاد فرمایا : بلاشبہ عنقریب تم پر اس طرف سے ، یا فرمایا : اس دروازہ سے یمن والوں میں بہترین شخص داخل ہوگا۔ خبردار ! اس کے چہرے پر شاہی اثرات ہوں گے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں۔ پس میں نے اللہ کی تعریف کی اس بات پر جس کے ساتھ اللہ نے آزمایا۔