(۳۷۷۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، وَفَاطِمَۃُ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : صَنَعْتُ سُفْرَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَیْتِ أَبِی بَکْرٍ ، حِیْنَ أَرَادَ أَنْ یُہَاجِرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، قَالَتْ : فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِہِ ، وَلاَ لِسِقَائِہِ مَا نَرْبِطُہُمَا بِہِ ، فَقُلْتُ لأَبِی بَکْرٍ: وَاللہِ مَا أَجِدُ شَیْئًا أَرْبِطُ بِہِ إِلاَّ نِطَاقِی ، قَالَتْ: فَقَالَ: شُقِّیہِ بِاثْنَیْنِ ، فَارْبِطِی بِوَاحِدٍ السِّقَائَ ، وَبِالآخَرِ السُّفْرَۃَ ، فَلِذَلِکَ سُمِّیتُ ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ۔
(بخاری ۵۳۸۸۔ احمد ۳۴۶)
(٣٧٧٦٣) حضرت اسمائ بیان فرماتی ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے ابوبکر کے گھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لیے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے۔ میں نے ابوبکر سے کہا : بخدا ! مجھے باندھنے کے لیے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے۔ فرماتی ہیں : سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا : اسی (پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑ لو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ اسی وجہ سے حضرت اسمائ کا نام ذات النطاقین معروف ہوگیا۔