hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37781

.

ابن أبي شيبة

37781
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ الأَسْلَمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، یَقُولُ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی کِسْرَی وَقَیْصَرَ وَالنَّجَاشِیِّ : أَمَّا بَعْدُ ، {تَعَالَوْا إلَی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ، أَلاَ نَعْبُدَ إلاَّ اللَّہَ ، وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا ، وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہِ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْہَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}۔ قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : فَمَزَّقَ کِسْرَی الْکِتَابَ وَلَمْ یَنْظُرْ فِیہِ ، قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُزِّقَ وَمُزِّقَتْ أُمَّتُہُ ، فَأَمَّا النَّجَاشِیُّ فَآمَنَ ، وَآمَنَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ ، وَأَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُہْدِیہِ حُلَّۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُتْرُکُوہُ مَا تَرَکَکُمْ۔ وَأَمَّا قَیْصَرُ ؛ فَقَرَأَ کِتَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَذَا کِتَابٌ لَمْ أَسْمَعْ بِہِ بَعْدَ سُلَیْمَانَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم) ، ثُمَّ أَرْسَلَ إلَی أَبِی سُفْیَانَ وَالْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، وَکَانَا تَاجِرَیْنِ بِأَرْضِہِ ، فَسَأَلَہُمَا عَنْ بَعْضِ شَأْنِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَہُمَا مَنْ تَبِعَہُ ، فَقَالاَ : تَبِعَہُ النِّسَائُ وَضَعَفَۃُ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَرَأَیْتُمَا الَّذِینَ یَدْخُلُونَ مَعَہُ یَرْجِعُونَ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : ہُوَ نَبِیٌّ ، لَیَمْلِکَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِی، لَوْ کُنْتُ عِنْدَہُ لَقَبَّلْتُ قَدَمَیْہِ۔ (سعید بن منصور ۲۴۸۰)
(٣٧٧٨٢) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد ! ” ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں “ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو ” گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو ۔ اور قیصر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا : یہ بتاؤ ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ! قیصرنے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔