(۳۷۷۸۳) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ یَعْقُوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَۃَ نَفَرٍ إِلَی أَرْبَعَۃِ وُجُوہٍ : رَجُلاً إِلَی کِسْرَی ، وَرَجُلاً إِلَی قَیْصَرَ ، وَرَجُلاً إِلَی الْمُقَوْقَسِ ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، فَأَصْبَحَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ یَتَکَلَّمُ بِلِسَانِ الْقَوْمِ الَّذِینَ بُعِثَ إِلَیْہِمْ ، فَلَمَّا أَتَی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ النَّجَاشِیَّ وَجَدَ لَہُمْ بَابًا صَغِیرًا یَدْخُلُونَ مِنْہُ مُکَفِّرِینَ ، فَلَمَّا رَأَی عَمْرُو ذَلِکَ وَلَّی ظَہْرَہُ الْقَہْقَرَی ، قَالَ : فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْحَبَشَۃِ فِی مَجْلِسِہِمْ عِنْدَ النَّجَاشِیِّ ، حَتَّی ہَمُّوا بِہِ ، حَتَّی قَالُوا لِلنَّجَاشِیِّ : إِنَّ ہَذَا لَمْ یَدْخُلْ کَمَا دَخَلْنَا ، قَالَ : مَا مَنَعَک أَنْ تَدْخُلَ کَمَا دَخَلُوا ؟ قَالَ : إِنَّا لاَ نَصْنَعُ ہَذَا بِنَبِیِّنَا ، وَلَوْ صَنَعَنَاہُ بِأَحَدٍ صَنَعَنَاہُ بِہِ ، قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : دَعُوہُ۔
قَالُوا لِلنَّجَاشِیِّ : ہَذَا یَزْعُمُ أَنَّ عِیسَی مَمْلُوکٌ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ فِی عِیسَی ؟ قَالَ : کَلِمَۃُ اللہِ وَرُوحُہُ ، قَالَ : مَا اسْتَطَاعَ عِیسَی أَنْ یَعْدُوَ ذَلِکَ۔
(٣٧٧٨٣) حضرت جعفر بن عمرو کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار افراد کو چار افراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہوگیا جن کی طرف انھیں (قاصد بنا کر) بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ ، نجاشی کے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے ان کے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو نے یہ دیکھا تو آپ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انھوں نے ان کا ارادہ کیا۔ اور یہاں تک کہ انھوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندر نہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : ہم یہ کام اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ کام کرتے۔ نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔ اس کو چھوڑ دو ۔
لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا : تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے)