hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37783

.

ابن أبي شيبة

37783
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۷۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی جَدِّی ، وَہَذَا کِتَابُہُ عِنْدَنَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی عُمَیْرِ ذِی مُرَّانَ ، وَإِلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ ہَمْدَانَ ، سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکُمُ اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إلاَّ ہُوَ ، أَمَّا بَعْدُ ذَلِکُمْ ، فَإِنَّہُ بَلَغَنَا إِسْلاَمُکُمْ مَرْجِعَنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ، فَأَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ ہَدَاکُمْ بِہُدَاہُ ، وَأَنَّکُمْ إِذَا شَہِدْتُمْ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، وَأَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ ، وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ ، فَإِنَّ لَکُمْ ذِمَّۃَ اللہِ ، وَذِمَّۃَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ عَلَی دِمَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَأَرْضِ الْبَوْنِ الَّتِی أَسْلَمْتُمْ عَلَیْہَا ، سَہْلِہَا وَجَبَلِہَا وَعُیُونِہَا وَمَرَاعِیہَا ، غَیْرَ مَظْلُومِینَ ، وَلاَ مُضَیَّقًا عَلَیْکُمْ ، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَأَہْلِ بَیْتِہِ ، وَإِنَّمَا ہِیَ زَکَاۃٌ تُزَکُّونَ بِہَا أَمْوَالَکُمْ لِفُقَرَائِ الْمُسْلِمِینَ ، وَإِنَّ مَالِکَ بْنَ مُرَارَۃَ الرَّہَاوِیَّ حَفِظَ الْغَیْبَ ، وَبَلَّغَ الْخَبَرَ ، وَآمُرُک بِہِ یَا ذَا مُرَّانَ خَیْرًا ، فَإِنَّہُ مَنْظُورٌ إِلَیْہِ ۔ وَکَتَبَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ : وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، وَلَیُحَیِّیْکُمْ رَبُّکُمْ۔ (ابوداؤد ۳۰۲۱۔ ابویعلی ۶۸۲۹)
(٣٧٧٨٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک ہے۔ ” شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد ! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا ۔ اور اے ذی مران ! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔