(۳۷۷۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَوْہَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَۃَ ، یَقُولُ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ : أُسِلْمٌّ أَنْتَ ، قَالَ : فَلَمْ یَفْرُغَ النَّبِیُّ علیہ الصلاۃ والسلام مِنْ کِتَابِہِ حَتَّی أَتَاہُ کِتَابٌ مِنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ ؛ أَنَّہُ یَقْرَأُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ السَّلاَمَ ، فَرَدَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ السَّلاَمَ فِی أَسْفَلِ کِتَابِہِ۔
(٣٧٧٨٩) حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو خط لکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابھی اپنے خط (لکھوانے) سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسی آدمی کا خط آگیا کہ وہ آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلامتی کی دعا کررہا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خط کے آخر میں اس کے سلام کا جواب دیا۔