(۳۷۷۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ السَّدُوسِیُّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا بِہَذَا الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَۃِ ، فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ مَعَہُ قِطْعَۃٌ مِنْ أَدِیمٍ ، أَوْ قِطْعَۃٌ مِنْ جِرَابٍ ، فَقَالَ : ہَذَا کِتَابٌ کَتَبَہُ لِی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَخَذْتُہُ ، فَقَرَأْتُہُ عَلَی الْقَوْمِ ، فَإِذَا فِیہِ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ : إِنَّکُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ ، وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ ، وَأَعْطَیْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ، وَسَہْمَ النَّبِیِّ ، وَالصَّفِیَّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللہِ وَأَمَانِ رَسُولِہِ ، قَالَ : فَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ شَیْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ ، وَثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یُذْہِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ۔ (ابوداؤد ۲۹۹۲۔ احمد ۷۸)
(٣٧٧٩٠) حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ ہم بصرہ میں اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے یا کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس آدمی نے کہا۔ یہ وہ خط ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تحریر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس خط کو پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کی طرف۔ بلاشبہ اگر تم لوگ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور غنائم میں سے خمس، سہم النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حاکم کا منتخب حصہ ادا کرو تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امان حاصل ہوگا۔ راوی نے پوچھا۔ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات سُنی ہے ؟ اعرابی نے کہا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے سُنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور ہر ماہ تین دن کے روزے سینہ کے وساوس کو ختم کردیتے ہیں۔