(۳۷۹۰۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَۃَ یَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ ، فَوَقَفَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : لَوْلاَ أَنِّی أَخْشَی أَنْ تَجِدَ صَفِیَّۃُ فِی نَفْسِہَا ؛ لَتَرَکْتُہُ حَتَّی تَأْکُلَہُ الْعَافِیَۃُ ، فَیُحْشَرَ مِنْ بُطُونِہَا ، ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَۃٍ ، فَکَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَی رَأْسِہِ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَی رِجْلَیْہِ بَدَا رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُدُّوہَا عَلَی رَأْسِہِ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ الْحَرْمَلَ ، وَقَلَّتِ الثِّیَابُ ، وَکَثُرَتِ الْقَتْلَی ، فَکَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالثَّلاَثَۃُ یُکَفَّنُونَ فِی الثَّوْبِ ، وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُ أَیُّہُمْ أَکْثَرُ قُرْآنًا ، فَیُقَدِّمُہُ۔
(ابوداؤد ۳۱۲۸۔ احمد ۱۲۸)
(٣٧٩٠٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے۔ درآنحالیکہ انھیں مثلہ کیا گیا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حضرت صفیہ اپنے دل میں یہ بات رکھ لیں گی تو میں حمزہ کو (یونہی) چھوڑ دیتا تاکہ اس کو چرند پرند اور مویشی کھا جائیں پھر یہ قیامت کو ان کے پیٹ سے اکٹھے ہو کر زندہ ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفید و سیاہ دھاریوں والا کمبل منگوایا۔ وہ کمبل جب حمزہ کے سر مبارک پر ڈالا جاتا تو آپ کے پاؤں کھل جاتے اور جب اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کی طرف کھینچا جاتا تو آپ کا سر کھل جاتا۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ کمبل ان کے سر کی طرف کھینچ لو اور ان کے پاؤں پر اسپند بوٹی ڈال دو ۔ کپڑے کم پڑگئے اور مقتولین زیادہ ہوگئے۔ پس ایک ، دو اور تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے تھے۔ ان میں زیادہ قرآن والا (حافظ) کون ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مقدم فرماتے۔