(۳۷۹۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِی وَجْہَ اللہِ ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا ، مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ شَیْئٌ یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ نَمِرَۃٌ ، کَانُوا إِذَا وَضَعُوہَا عَلَی رَأْسِہِ خَرَجَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا وَضَعُوہَا عَلَی رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوہَا مِمَّا یَلِی رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔
(٣٧٩١٠) حضرت خباب سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ہجرت کی اور ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی تھے۔ پس ہمارا اجر تو اللہ پر واجب ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا۔ انہی میں سے مصعب بن عمیر ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ان کو کفن دینے کے لیے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ ہوا۔ جب صحابہ کرام یہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کُھل جاتے تھے۔ اور جب اس کو پاؤں کی طرف کھینچتے تھے تو آپ کا سر مبارک کھل جاتا تھا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ چادر اس کے سر کی طرف کردو اور اس کے پاؤں پر اذخر (بوٹی) ڈال دو ۔ اور ہم میں سے بعض وہ تھے جن کے لیے ان کے (اجر کے) پھل پک گئے سو وہ انھیں کاٹ رہے ہیں۔