(۳۷۹۰۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَبَیْنَمَا نِسَائُ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ یَبْکِینَ عَلَی ہَلْکَاہُنَّ ، فَقَالَ : لَکِنَّ حَمْزَۃَ لاَ بَوَاکِیَ لَہُ ، فَجِئْنَ نِسَائُ الأَنْصَارِ یَبْکِینَ عَلَی حَمْزَۃَ ، وَرَقَدَ فَاسْتَیْقَظَ ، فَقَالَ : یَا وَیْحَہُنَ إِنَّہُنَّ لَہَاہُنَا حَتَّی الآنَ ؟ مُرُوہُنَّ فَلْیَرْجِعْنَ ، وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ۔
(٣٧٩٠٩) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے دن جب واپس تشریف لائے تو بنی عبد الاشہل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہیں۔ تو انصار کی عورتیں، حضرت حمزہ پر رونے کے لیے آگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے، جاگ اٹھے اور فرمایا : اے ہلاکت والیو ! یہ عورتیں ابھی تک یہاں ہیں، ان کو حکم دو کہ یہ واپس ہوجائیں اور آج کے بعد کسی ہلاک ہونے والے پر نہ روئیں۔