(۳۷۹۱۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ، قَالُوا: لَمَّا صَرَفَ مُعَاوِیَۃُ عَیْنَہُ الَّتِی تَمُرُّ عَلَی قُبُورِ الشُّہَدَائِ ، جَرَتْ عَلَیْہِمَا ، فَبَرَزَ قَبْرُہُمَا ، فَاسْتُصْرِخَ عَلَیْہِمَا ، فَأَخْرَجْنَاہُمَا یَتَثَنَّیَانِ تَثَنِّیًا کَأَنَّمَا مَاتَا بِالأَمْسِ، عَلَیْہِمَا بُرْدَتَانِ قَدْ غُطِّیَ بِہِمَا عَلَی وُجُوہِہِمَا، وَعَلَی أَرْجُلِہِمَا مِنْ نَبَاتِ الإِذْخِرِ۔
(٣٧٩١٣) بنو سلمہ کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے شہداء کی قبر کے پاس سے گزرنے والا چشمہ جاری فرمایا تو وہ چشمہ دو شہیدوں کی قبر پر سے گزرا تو ان کی قبر کھل گئی۔ پس لوگوں نے ان کے بارے میں فریاد کی تو ہم نے ان دونوں کو باہر نکالا ۔ وہ دونوں یوں لپٹے ہوئے تھے کہ گویا کل ہی مرے ہیں۔ ان پر دو چادریں تھیں۔ جن کے ذریعہ سے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر کی بوٹی پڑی ہوئی تھی۔