(۳۷۹۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ نُبَیْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبِی عَبْدُ اللہِ : أَیْ بنِیَّ ، لَوْلاَ نُسَیَّاتٌ أُخَلِّفُہُنَّ مِنْ بَعْدِی مِنْ أَخَوَاتٍ وَبَنَاتٍ ، لأَحْبَبْتُ أَنْ أُقَدِّمَکَ أَمَامِی ، وَلَکِنْ کُنَّ فِی نِظَارِی الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَائَتْ بِہِمَا عَمَّتِی قَتِیلَیْنِ ، یَعْنِی أَبَاہُ وَعَمَّہُ ، قَدْ عَرَضَتْہُمَا عَلَی بَعِیرٍ۔
(٣٧٩١٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبداللہ نے کہا۔ اے میرے بیٹے ! اگر یہ چھوٹی بہنیں اور بیٹیاں، جنہیں میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں، نہ ہوتی تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تجھے اپنے سے آگے کرتا۔ لیکن (اب) تم مدینہ میں میرے نظیر بن کر رہو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جلد ہی میری پھوپھی ان دونوں کو ۔۔۔ ان کے والد اور چچا کو ۔۔۔ مقتول حالت میں لے آئی۔ ان دونوں کو اس نے اونٹ پر ڈالا ہوا تھا۔