hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37964

.

ابن أبي شيبة

37964
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۹۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : مَسْعُود ، وَکَانَ نَمَّامًا ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ بَعَثَ أَہْلُ قُرَیْظَۃَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ: أَنَ ابْعَثْ إِلَیْنَا رِجَالاً یَکُونُونَ فِی آطَامِنَا ، حَتَّی نُقَاتِلَ مُحَمَّدًا مِمَّا یَلِی الْمَدِینَۃَ ، وَتُقَاتِلَ أَنْتَ مِمَّا یَلِی الْخَنْدَقَ ، فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یُقَاتَلَ مِنْ وَجْہَیْنِ ، فَقَالَ لِمَسْعُودٍ : یَا مَسْعُودُ ، إِنَّا نَحْنُ بَعَثْنَا إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ : أَنْ یُرْسِلُوا إِلَی أَبِی سُفْیَانَ ، فَیُرْسِلَ إِلَیْہِمْ رِجَالاً ، فَإِذَا أَتَوْہُمْ قَتَلُوہُمْ ، قَالَ : فَمَا عَدَا أَنْ سَمِعَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا تَمَالَکَ حَتَّی أَتَی أَبَا سُفْیَانَ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ : صَدَقَ وَاللہِ مُحَمَّدٌ ، مَا کَذَبَ قَطُّ ، فَلَمْ یَبْعَثْ إِلَیْہِمْ أَحَدًا۔
(٣٧٩٦٥) حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں ایک صاحب تھے جنہیں ” مسعود “ کہا جاتا تھا۔ یہ بہت چغل خور تھے۔ پس جب خندق کا دن تھا تو بنو قریظہ نے ابو سفیان کی طرف پیغام بھیجا ۔ تم ہماری طرف کچھ بندے بھیج دو جو ہمارے قلعوں میں (مورچہ زن) ہوں تاکہ ہم محمد کے ساتھ مدینہ کی (اندرونی) طرف سے قتال کریں اور تم لوگ خندق کی طرف سے قتال کرو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو جانب سے لڑنا مشکل محسوس ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسعود سے کہا۔ اے مسعود ! ہم نے بنو قریظہ کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ابو سفیان کی طرف اپنے افراد بھیجیں جب ابو سفیان ان کی طرف اپنے آدمی بھیجے گا تو بنو قریظہ والے ان کو قتل کردیں گے۔ جب مسعودنے یہ بات سنی تو ان سے صبر نہ ہوا اور انھوں نے یہ بات جا کر ابوسفیان کو بتادی۔ ابوسفیان نے کہا کہ خدا کی قسم ! محمد نے ہمیشہ سچ کہا کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چنانچہ اس نے بنو قریظہ کی طرف کسی کو نہیں بھیجا۔ (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عمل جنگی تدبیر کا حصہ تھا) ۔