(۳۷۹۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ یَنْقُلُ التُّرَابَ ، حَتَّی وَارَی التُّرَابُ شَعْرَ صَدْرِہِ ، وَہُوَ یَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ یَقُولُ:
اللَّہُمَّ لَوْ لاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
إِنَّ الأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا
وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
(٣٧٩٦٧) حضرت برائ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خندق والے دن مٹی ڈھوتے ہوئے دیکھا ۔ یہاں تک کہ مٹی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک کے بالوں کو چھپا دیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن رواحہ کے رجز کو پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے :
” اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہ راست پر نہ آتے، اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ “
” پس تو ہم پر سکینہ کو نازل فرما، اور قدموں کو ثابت رکھ اگر ہماری ملاقات (دشمن سے) ہو۔ “
” بلاشبہ ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے، اور اگر وہ فتنہ چاہیں گے تو اہم انکار کریں گے۔ “