(۳۷۹۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ : مَنْ رَجُلٌ یَذْہَبُ فَیَأْتِینَا بِخَبَرِ بَنِی قُرَیْظَۃَ ؟ فَرَکِبَ الزُّبَیْرُ فَجَائَہُ بِخَبَرِہِمْ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : مَنْ یَجِیئُنِی بِخَبَرِہِمْ ؟ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَجَمَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَیْرِ أَبَوَیْہِ ، فَقَالَ : فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ، وَقَالَ لِلزُّبَیْرِ : لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِی ، وَحِوَارِیِّ الزُّبَیْرُ ، وَابْنُ عَمَّتِی۔
(٣٧٩٧٤) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن ارشاد فرمایا : کون آدمی جائے گا اور ہمیں بنو قریظہ کی خبر لا کر دے گا ؟ حضرت زبیر سوار ہوگئے اور بنو قریظہ کے بارے میں خبر لے آئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات دہرائی اور تین مرتبہ فرمایا۔ کون مجھے ان کی خبر لا کر دے گا ؟ تو حضرت زبیر نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر کے لیے اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر سے فرمایا : ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔