(۳۷۹۷۵) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ حَیْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْفِرَ الْخَنْدَقَ ، عَرَضَ لَنَا فِی بَعْضِ الْجَبَلِ صَخْرَۃٌ عَظِیمَۃٌ شَدِیدَۃٌ ، لاَ تَدْخُلُ فِیہَا الْمَعَاوِلُ ، فَاشْتَکَیْنَا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآہَا أَخَذَ الْمِعْوَلَ وَأَلْقَی ثَوْبَہُ ، وَقَالَ : بِسْمِ اللہِ ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَۃً فَکَسَرَ ثُلُثَہَا ، فَقَالَ : اَللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الشَّامِ ، وَاللہِ إِنِّی لأَبْصِرُ قُصُورَہَا الْحُمْرَ السَّاعَۃَ ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ فَقَطَعَ ثُلُثًا آخَرَ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ فَارِسَ ، وَاللہِ إِنِّی لأُبْصِرُ قَصْرَ الْمَدَائِنِ الأَبْیَضَ ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ ، فَقَالَ : بِسْمِ اللہِ ، فَقَطَعَ بَقِیَّۃَ الْحَجَرِ ، وَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الْیَمَنِ ، وَاللہِ إِنِّی لأَبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَائَ۔ (احمد ۳۰۳۔ ابویعلی ۱۶۸۱)
(٣٧٩٧٥) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خندق کھودیں تو ایک پہاڑ کے اندر ہمارے سامنے ایک بڑی چٹان آگئی۔ جس میں کدالیں داخل نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے اس بات کی شکایت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چٹان کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدال ہاتھ میں لی اور اپنا کپڑا رکھ دیا۔ اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! شام کی چابیاں عطا کردی گئیں ہیں۔ بخدا ! مجھے اس وقت اس کے سرخ محلات دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری ضرب لگائی ۔ تو ایک تہائی چٹان مزید ٹوٹ گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! فارس (کے خزانوں) کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے مدائن کا سفید محل دکھائی دے رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری ضرب لگائی اور فرمایا : بسم اللہ ! تو بقیہ چٹان بھی ٹوٹ گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! یمن (کے خزانوں) کی کنجیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے صنعاء کے دروازے دکھائی دے رہے ہیں۔