(۳۷۹۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَیْتِ ، صَالَحَہُ أَہْلُ مَکَّۃَ عَلَی أَنْ یَدْخُلَہَا فَیُقِیمَ بِہَا ثَلاَثًا ، وَلاَ یَدْخُلَہَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ : السَّیْفِ وَقِرَابِہِ ، وَلاَ یَخْرُجَ مَعَہُ بِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِہَا ، وَلاَ یَمْنَعَ أَحَدًا أَنْ یَمْکُثَ بِہَا مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ ، فَقَالَ لِعَلِیٍّ : اُکْتُبَ الشَّرْطَ بَیْنَنَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ تَابَعْنَاکَ ، وَلَکِنِ اکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَأَمَرَ عَلِیًّا أَنْ یَمْحُوَہَا ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ وَاللہِ ، لاَ أَمْحُوہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَرِنِی مَکَانَہَا ، فَأَرَاہُ مَکَانَہَا ، فَمَحَاہَا ، وَکَتَبَ : ابْنُ عَبْدِ اللہِ ، فَأَقَامَ فِیہَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ ، قَالُوا لِعَلِیٍّ : ہَذَا آخِرُ یَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ ، فَمُرْہُ فَلْیَخْرُجْ ، فَحَدَّثَہُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ۔ (بخاری ۲۶۹۸۔ مسلم ۱۴۱۰)
(٣٧٩٩٦) حضرت برائ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ سے روک دیا گیا (تو اس وقت) اہل مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر مصالحت کرلی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں پر تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں صرف اسلحہ کے تھیلے کو ، جس میں تلوار اور زرہ ہوگی ۔۔۔ لے کر آئیں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو لے کر نہیں جائیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو لوگ ہوں گے ان میں سے کسی کو یہاں ٹھہرنے سے آپ منع نہیں کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : ” ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کرو۔ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی ہے۔ “ مشرکین کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول ، مانتے تو ہم آپ کے متبع بن جاتے لیکن (چونکہ ہم نہیں مانتے لہٰذا) آپ یوں لکھیں۔ محمد بن عبداللہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو حکم دیا کہ پہلی والی عبارت مٹا دو ۔ حضرت علی فرمانے لگے۔ نہیں ! خدا کی قسم ! میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے وہ جگہ دکھاؤ۔ حضرت علی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ جگہ دکھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جملہ کو مٹا دیا۔ اور (اس کی جگہ) لکھا۔ ابن عبداللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اگلے سال) تین دن مکہ میں قیام فرمایا۔ جب تیسرا دن آیا تو مشرکین نے حضرت علی سے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے پس تم ان سے کہو کہ وہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ حضرت علی نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکل گئے۔