(۳۷۹۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: نَزَلْنَا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، فَوَجَدْنَا مَائَہَا قَدْ شَرِبَہُ أَوَائِلُ النَّاسِ ، فَجَلَسَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْبِئْرِ ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْہَا ، فَأَخَذَ مِنْہُ بِفِیہِ، ثُمَّ مَجَّہُ فِیہَا وَدَعَا اللَّہَ ، فَکَثُرَ مَاؤُہَا حَتَّی تَرَوَّی النَّاسُ مِنْہَا۔
(٣٧٩٩٧) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ ہم نے (جب) حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے اس کے کنویں کو اس حال میں پایا کہ (ہم سے) پہلے والے لوگ اس سے پی چکے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں کے منڈیر پر تشریف فرما ہوئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے ایک ڈول منگوایا اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور پھر اس پانی کو دوبارہ ڈول میں کلی کردیا اور اللہ سے دعا کی۔ تو اس کنویں کا پانی اتنا زیادہ ہوگیا کہ سارے لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔