(۳۷۹۹۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ فِی الْہُدْنَۃِ الَّتِی کَانَتْ قَبْلَ الصُّلْحِ الَّذِی کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ ، قَالَ : وَالْمُشْرِکُونَ عِنْدَ بَابِ النَّدْوَۃِ مِمَّا یَلِی الْحِجْرَ ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہِ جُہْدًا وَہُزْلاً ، فَلَمَّا اسْتَلَمُوا ، قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُمْ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِکُمْ جُہْدًا وَہُزْلاً ، فَارْمُلُوا ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ حَتَّی یَرَوْا أَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً ، قَالَ : فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ رَفَعُوا أَرْجُلَہُمْ فَرَمَلُوا ، حَتَّی قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : أَلَیْسَ زَعَمْتُمْ أَنَّ بِہِمْ ہُزْلاً وَجُہْدًا ، وَہُمْ لاَ یَرْضَوْنَ بِالْمَشْیِ حَتَّی یَسْعَوْا سَعْیًا ؟۔ (احمد ۳۵۶۔ طبرانی ۱۲۰۷۷)
(٣٧٩٩٩) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ، مشرکین اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ہونے والی صلح کے بعد تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : مشرکین حجر اسود سے متصل باب الندوۃ کے پاس موجود تھے اور باہم یہ گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو کمزوری اور لاغری لاحق ہوگئی ہے۔ تو جب صحابہ نے استلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا : یہ لوگ باہم یہ گفتگو کر رہے ہیں کہ تمہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ پس تم تین چکروں میں رمل کرو۔ تاکہ وہ دیکھ لیں کہ تم قوی ہو۔ راوی کہتے ہں ت : جب صحابہ نے استلام کیا تو قدم اٹھاتے ہی انھوں نے رمل شروع کردیا۔ اس پر مشرکین میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ تمہارا تو خیال یہ نہیں تھا کہ انھیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ لوگ تو خالی چلنے پر راضی نہیں ہیں جب تک کہ دوڑ نہ لیں۔