(۳۸۰۰۰) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ یَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِیَۃَ ، قَالَ : شَہِدْتُ الْحُدَیْبِیَۃَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْہَا إِذَا النَّاسُ یُوجِفُونَ الأَبَاعِرَ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَقَالُوا : أُوحِیَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا نُوجِفُ مَعَ النَّاسِ حَتَّی وَجَدْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیمِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ إِلَیْہِ بَعْضُ مَا یُرِیدُ مِنَ النَّاسِ ، قَرَأَ عَلَیْہِمْ : (إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَوَفَتْحٌ ہُوَ ؟ قَالَ : إِیْ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّہُ لَفَتْحٌ ، قَالَ : فَقُسِّمَتْ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ، عَلَی ثَمَانیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا ، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِئَۃٍ ، وَثَلاَثُ مِئَۃ فَارِسٍ ، فَکَانَ لِلْفَارِسِ سَہْمَانِ۔
(٣٨٠٠٠) حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ میں، حدیبیہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔ پس جب ہم حدیبیہ سے واپس پلٹے تو لوگوں نے اونٹوں کو تیز رفتار سے بھگانا شروع کیا۔ پھر بعض صحابہ نے بعض سے پوچھا۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم بھی لوگوں کے ہمراہ سواریاں دوڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کراع غمیم نامی پہاڑ کے پاس کھڑے پایا۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے مطلوبہ افراد جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک صاحب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بلاشبہ یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں یہ فتح تقسیم کی گئی ۔ لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی۔ اور تین سو (ان میں) گھڑ سوار تھے ۔ اور گھڑ سوار کو دو حصے ملے تھے۔