(۳۸۰۱۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو مُرَّۃَ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ الْہَدْیُ دُونَ الْجِبَالِ الَّتِی تَطْلُعُ عَلَی وَادِی الثَّنِیَّۃِ ، عَرَضَ لَہُ الْمُشْرِکُونَ ، فَرَدُّوا وُجُوہَ بُدْنِہِ ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ حَبَسُوہُ وَہِیَ الْحُدَیْبِیَۃُ ، وَحَلَقَ وَائْتَسَی بِہِ نَاسٌ فَحَلَقُوا ، وَتَرَبَّصَ آخَرُونَ ، قَالُوا : لَعَلَّنَا نَطُوفُ بِالْبَیْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قِیلَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ، قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ثَلاَثًا۔
(٣٨٠١٣) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب ہدی کے جانور (ابھی) ان پہاڑوں سے پیچھے تھے جن پہاڑوں پر ثنیۃ وادی دکھائی دیتی ہے۔ تو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہدی کے جانوروں کے رُخ پھیر دیئے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسی مقام پر نحر کیا جہاں پر مشرکین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روکا تھا۔ اور یہ مقام حدیبیہ تھا۔ اور (پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق فرمایا اور لوگوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حلق کروایا ۔ اور کچھ دیگر لوگ انتظار میں رہے۔ اور انھوں نے کہا۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ (اس پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) کہا گیا۔ اور قصر کروانے والے ۔۔۔ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (پھر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔