(۳۸۰۱۹) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَنْصَارِیُّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَمْرٌو ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أُسَیْدَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَشْرَۃَ رَہْطٍ سَرِیَّۃً عَیْنًا ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَخَرَجُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْہَدَّۃِ ذُکِرُوا لِحَیٍّ مِنْ ہُذَیْلٍ ، یُقَالُ لَہُمْ بَنُو لِحْیَانَ ، فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ مِئَۃَ رَجُلٍ رَامِیًا ، فَوَجَدُوا مَأْکَلَہُمْ حَیْثُ أَکَلُوا التَّمْرَ ، فَقَالُوا : ہَذِا نَوَی یَثْرِبَ ، ثُمَّ اتَّبَعُوا آثَارَہُمْ ، حَتَّی إِذَا أَحَسَّ بِہِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ لَجَؤُوا إِلَی جَبَلٍ ، فَأَحَاطَ بِہِمَ الآخَرُونَ ، فَاسْتَنْزَلُوہُمْ وَأَعْطَوْہُمَ الْعَہْدَ ، فَقَالَ عَاصِمٌ : وَاللہِ لاَ أَنْزِلُ عَلَی عَہْدِ کَافِرٍ ، اللَّہُمَّ أَخْبِرْ نَبِیَّک عَنَّا ، وَنَزَلَ إِلَیْہِ ابْنُ دَثِنَۃَ الْبَیَاضِیُّ۔ (بخاری ۳۰۴۵۔ ابوداؤد ۲۶۵۳)
(٣٨٠١٩) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس افراد پر مشتمل ایک جاسوس سریہ روانہ فرمایا اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا۔ پس یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ جب یہ لوگ مقام ہدہ میں تھے تو (ان کے بارے میں) ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان سے ذکر کیا گیا تو انھوں نے ان کی طرف ایک سو تیر انداز مرد بھیجے۔ ان تیر اندازوں نے ان کے کھانے کے مقام کو ۔۔۔ جہاں انھوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔۔۔ دیکھا تو بولے، یہ تو یثرب کی (کھجوروں کی) گٹھلیاں ہیں۔ پھر وہ لوگ ان کے نشانات قدم پر چلے یہاں تک کہ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں کو ان کے آنے کا احساس ہوا تو انھوں نے ایک پہاڑ کی طرف پناہ پکڑی۔ اور دوسرے لوگوں (تیر اندازوں) نے ان کا احاطہ کرلیا اور ان سے نیچے اترنے کو کہا۔ اور انھیں عہد (امان) دیا۔ تو حضرت عاصم نے فرمایا : میں کسی کافر کے عہد (امان) پر نیچے نہیں اتروں گا۔ اے اللہ ! تو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے بارے میں خبر پہنچا دے اور ابن دثنہ بیاظی اس کی طرف اتر گیا۔