(۳۸۰۵۰) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو مُنَیْنٍ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لأَدْفَعَن الْیَوْمَ الرَّایَۃَ إِلَی رَجُلٍ یُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، فَتَطَاوَلَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ: أَیْنَ عَلِیٌّ؟ فَقَالُوا: یَشْتَکِی عَیْنَہُ ، فَدَعَاہُ فَبَزَقَ فِی کَفَّیْہِ ، وَمَسَحَ بِہِمَا عَیْنَ عَلِیٍّ ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَیْہِ الرَّایَۃَ ، فَفَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ۔
(٣٨٠٥٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آج کے دن میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے اوپر اوپر اٹھ کر دیکھنا شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ان کی آنکھ میں شکایت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو بلایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوکا اور ان کو حضرت علی کی آنکھ پر پھیرا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو جھنڈا حوالہ کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی دن حضرت علی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔