hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38048

.

ابن أبي شيبة

38048
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۰۴۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن عَلِیٍّ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللہِ إِلَی خَیْبَرَ ، فَلَمَّا أَتَاہَا بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَہُ النَّاسُ ، إِلَی مَدِینَتِہِمْ ، أَوْ إِلَی قَصْرِہِمْ ، فَقَاتَلُوہُمْ ، فَلَمْ یَلْبَثُوا أَنِ انْہَزَمَ عُمَرُ وَأَصْحَابُہُ ، فَجَائَ یُجَبِّنُہُمْ وَیُجَبِّنُونَہُ ، فَسَائَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : لأَبْعَثَنَّ إِلَیْہِمْ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، یُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ لَہُ ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ ، فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَہَا ، وَمَدُّوا أَعْنَاقَہُمْ ، یُرُونَہُ أَنْفُسَہُمْ ، رَجَائَ مَا قَالَ ، فَمَکَثَ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ عَلِیٌّ ؟ فَقَالُوا : ہُوَ أَرْمَدُ ، فَقَالَ : ادْعُوہُ لِی ، فَلَمَّا أَتَیْتُہُ ، فَتَحَ عَیْنَیَّ ، ثُمَّ تَفَلَ فِیہِمَا ، ثُمَّ أَعْطَانِی اللِّوَائَ ، فَانْطَلَقْتُ بِہِ سَعْیًا ، خَشْیَۃَ أَنْ یُحْدِثَ رَسُولُ اللہِ فِیہِمْ حَدَثًا ، أَوْ فِی ، حَتَّی أَتَیْتُہُمْ فَقَاتَلْتُہُمْ ، فَبَرَزَ مَرْحَبٌ یَرْتَجِزُ ، وَبَرَزْت لَہُ أَرْتَجِزُ کَمَا یَرْتَجِزُ ، حَتَّی الْتَقَیْنَا ، فَقَتَلَہُ اللَّہُ بِیَدَی ، وَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ ، فَتَحَصَّنُوا وَأَغْلَقُوا الْبَابَ ، فَأَتَیْنَا الْبَابَ ، فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُہُ حَتَّی فَتَحَہُ اللَّہُ۔ (حاکم ۳۷)
(٣٨٠٤٩) حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں پہنچ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انھوں نے (جا کر) ان کے ساتھ لڑائی کی ۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ ۔۔۔ حضرت عمر اور ان کے ساتھی ۔۔۔ پسپا ہوگیا۔ پس حضرت عمر ، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں) واپس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ آدمی بھاگنے والا نہیں ہوگا۔ “ (یہ بات سن کر) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اور اپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کوئی خیال نہ آجائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آجائے۔ یہاں تک کہ میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لیے آیا تو میں بھی اس کے جواب میں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لیے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈبھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔ اور اس کے ساتھی پسپا ہوگئے اور قلعہ بند ہوگئے انھوں نے دروازہ بند کرلیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔