hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38063

.

ابن أبي شيبة

38063
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۰۶۴) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَ یَوْمَ الْفَتْحِ وَالأَنْصَابُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ ، فَجَعَلَ یُکَفؤہَا لِوُجُوہِہَا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطِیبًا ، فَقَالَ : أَلاَ إِنَّ مَکَّۃَ حَرَامٌ أَبَدًا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی ، غَیْرَ أَنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا ، وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا ، وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا ، وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ أَنْ تُعَرَّفَ ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ ، لِصَاعَتِنَا وَبُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ۔ (بخاری ۴۳۱۳)
(٣٨٠٦٤) حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ” خبردار ! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لیے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لیے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لیے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ” (یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔