(۳۸۰۶۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَ یَوْمَ الْفَتْحِ، وَصُورَۃُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ فِی الْبَیْتِ، وَفِی أَیْدِیہِمَا الْقِدِاحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا لإِبْرَاہِیمَ وَلِلْقِدِاحِ ؟ وَاللہِ مَا اسْتَقْسَمَ بِہَا قَطُّ ، ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَبُلَّ وَمَحَی بِہِ صُوَرَہُمَا۔
(٣٨٠٦٣) حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن تشریف لائے۔ بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تصاویر تھیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ابراہیم اور تیروں کا (آپس میں) کیا جوڑ ہے ؟ بخدا ! حضرت ابراہیم نے کبھی تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی نہیں کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑا لانے کا حکم دیا اور اس کو تر کر کے ان حضرات کی تصاویر کو مٹا دیا گیا۔