(۳۸۰۷۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ (ح) وَعَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ حِینَ دَخَلَہَا وَہُوَ مُعْتَجِرٌ بِشُقَّۃِ بُرْدٍ أَسْوَدَ ، فَطَافَ عَلَی رَاحِلَتِہِ الْقَصْوَائِ ، وَفِی یَدِہِ مِحْجَنٌ یَسْتَلِمُ بِہِ الأَرْکَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا وَجَدْنَا لَہَا مُنَاخًا فِی الْمَسْجِدِ ، حَتَّی نَزَلَ عَلَی أَیْدِی الرِّجَالِ ، ثُمَّ خُرِجَ بِہَا حَتَّی أُنِیخَتْ فِی الْوَادِی، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ عَلَی رِجْلَیْہِ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ لَہُ أَہْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّہَ قَدْ وَضَعَ عَنْکُمْ عُِبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَتَعَظَّمَہَا بِآبَائِہَا ، النَّاسُ رَجُلاَنِ : فَبَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیمٌ عَلَی اللہِ ، وَکَافِرٌ شَقِیٌّ ہَیِّنٌ عَلَی اللہِ ، أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ : {یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَأُنْثَی ، وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ، إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ أَتْقَاکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} أَقُولُ ہَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ لِی وَلَکُمْ۔
قَالَ : ثُمَّ عَدَلَ إِلَی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَأُتِیَ بِدَلْوٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ، فَغَسَلَ مِنْہَا وَجْہَہُ ، مَا تَقَعُ مِنْہُ قَطْرَۃٌ إِلاَّ فِی یَدِ إِنْسَانٍ ، إِنْ کَانَتْ قَدْرَ مَا یَحْسُوہَا حَسَاہَا ، وَإِلاَّ مَسَحَ بِہَا ، وَالْمُشْرِکُونَ یَنْظُرُونَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَیْنَا مَلِکًا قَطَّ أَعْظَمَ مِنَ الْیَوْمِ ، وَلاَ قَوْمًا أَحْمَقَ مِنَ الْیَوْمِ۔
ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً ، فَرَقَیَ عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ ، فَأَذَّنَ بِالصَّلاَۃِ ، وَقَامَ الْمُسْلِمُونَ فَتَجَرَّدُوا فِی الأُزُرِ ، وَأَخَذُوا الدِّلاَئَ، وَارْتَجَزُوا عَلَی زَمْزَمَ یَغْسِلُونَ الْکَعْبَۃَ ، ظَہْرَہَا وَبَطْنَہَا ، فَلَمْ یَدَعُوا أَثَرًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِلاَّ مَحَوْہُ، أَوْ غَسَلُوہُ۔ (ترمذی ۳۲۷۰)
(٣٨٠٧٤) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عمر نے فرمایا : کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے لیے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا :
٢۔ اے لوگو ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگو ! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (ترجمہ) اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔
٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر وہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا ۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے ۔ تو وہ کہنے لگے ۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔
٤۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چنانچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انھوں نے نماز کے لیے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انھوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انھوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔