(۳۸۰۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی الدُّؤَلِ بْنِ بَکْرٍ : لَوَدِدْت أَنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُ مِنْہُ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ : انْطَلِقْ مَعِی ، فَقَالَ : إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَقْتُلَنِی خُزَاعَۃُ ، فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی انْطَلَقَ ، فَلَقِیَہُ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَۃَ ، فَعَرَفَہُ فَضَرَبَ بَطْنَہُ بِالسَّیْفِ ، قَالَ : قَدْ أَخْبَرْتُک أَنَّہُمْ سَیَقْتُلُونَنِی ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ ہُوَ حَرَّمَ مَکَّۃَ ، لَیْسَ النَّاسُ حَرَّمُوہَا ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ ، وَہِیَ بَعْدُ حَرَمٌ ، وَإِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللہِ ثَلاَثَۃٌ : مَنْ قَتَلَ فِیہَا ، أَوْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلٍ ، أَوْ طَلَبَ بِذُحُولِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَلأَدِیَنَّ ہَذَا الرَّجُلَ۔
قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ : فَحَدَّثْت بِہَذَا الْحَدِیثِ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، فَقُلْتُ : أَعْدَی اللَّہَ ، فَقَالَ : أَعْدَی۔
(٣٨٠٧٧) حضرت زہری روایت بیان کرتے ہیں کہ بنو دؤل بن بکرکے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کروں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ ارشادات سنوں۔ چنانچہ اس نے ایک آدمی سے کہا۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس آدمی نے کہا۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں بنو خزاعہ کے لوگ مجھے قتل نہ کردیں۔ (بہر حال) یہ اس کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی اس کو ملا اور اس نے اس کو پہچان لیا اور اس نے اس کے پیٹ میں تلوار ماری۔ اس مقتول نے کہا۔ میں نے تمہیں (پہلے) خبر دی تھی کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے۔ پھر یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (خود) مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے مکہ کو حرم نہیں بنایا۔ یہ مکہ تو میرے لیے دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا تھا اور اس کے بعد ابھی تک حرام ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے تین لوگ ہیں۔ وہ آدمی جو مکہ میں قتل کرے۔ وہ آدمی جو غیر قاتل کو قتل کرے۔ وہ آدمی جو جاہلیت کے انتقام مانگے۔ پس البتہ میں (خود) اس آدمی کی دیت دوں گا۔ “