(۳۸۰۷۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ لَمَّا جَائَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِی سُفْیَانَ ، فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّہْرَانِ ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرَ، فَلَوْ جَعَلْتَ لَہُ شَیْئًا؟ قَالَ، نَعَمْ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ۔
(ابوداؤد ۳۰۱۵۔ بیہقی ۳۰۱۶)
(٣٨٠٧٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کے سال حضرت عباس بن عبد المطلب ابو سفیان کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابو سفیان نے مقام مرالظہران میں اسلام قبول کیا تو حضرت عباس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے کوئی ایسی (فخریہ) چیز مقرر فرما دیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ مامون ہوگا اور جو کوئی شخص اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی مامون ہوگا۔