(۳۸۱۰۲) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ ، ابْنِ أَخِی یَعْلَی بْنِ مُنْیَۃَ ، أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ یَعْلَی ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَبِی أُمَیَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَایِعْ أَبِی عَلَی الْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِہَادِ ، فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ۔ (نسائی ۷۷۹۱۔ احمد ۲۲۳)
(٣٨١٠٢) حضرت یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد امیہ کو لے کر حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد کو ہجرت پر بیعت کرلیجئے ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (نہیں) بلکہ میں تو ان سے جہاد پر بعتب لوں گا کیونکہ ہجرت تو ختم ہوگئی ہے۔