(۳۸۱۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُشَارِکُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الإِسْلاَمِ فِی التِّجَارَۃِ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ أَتَاہُ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِأَخِی وَشَرِیکِی کَانَ لاَ یُدَارِی ، وَلاَ یُمَارِی یَا سَائِبُ ، قَدْ کُنْت تَعْمَلُ أَعْمَالاً فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، لاَ تُتَقَبَّلُ مِنْک ، وَہِیَ الْیَوْمُ تُتَقَبَّلُ مِنْک ۔ وَکَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَۃٍ۔ (احمد ۴۲۵۔ حاکم ۶۱)
(٣٨١٠٣) حضرت سائب سے روایت ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسلام (کی آمد) سے پہلے تجارت میں شریک تھے۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مرحبا ! میرے بھائی اور میرے شریک (تجارت) ! جو نہ دھوکا دیتا تھا اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتا تھا۔ اے سائب ! تحقیق تم جاہلیت میں کچھ ایسے (اچھے) اعمال کرتے تھے جو تم سے قبول نہیں کیے جاتے تھے۔ آج وہ اعمال تم سے قبول کئے جائیں گے۔