(۳۸۱۰۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ ، دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَدَخَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقْتُلَنَّ ، فَوَضَعَ یَدَہُ فِی الْقَتْلِ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَک عَلَی مَا صَنَعْت ؟ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا قَدَرْتُ عَلَی أَنْ لاَ أَصْنَعَ إِلاَّ الَّذِی صَنَعْتُ۔
(٣٨١٠٤) حضرت حمزہ زیات روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور حضرت خالد بن ولید مکہ کے نچلے حصہ سے داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم ارشاد فرمایا : تم ہرگز قتل نہ کرنا۔ پھر ان کا ہاتھ قتل میں ملوث ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس چیز نے ابھارا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے سوا کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔