(۳۸۱۰۷) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ مُرَّۃُ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَاصَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ الطَّائِفِ ، فَلَمْ یَنَلْ مِنْہُمْ شَیْئًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُغْدُوَا عَلَی الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا ، فَأَصَابَہُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ ، فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۴۳۲۵۔ مسلم ۱۴۰۲)
(٣٨١٠٧) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے عرض کیا۔ ہم واپس لوٹ جائیں گے حالانکہ ہم نے اس کو فتح نہیں کیا۔ اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (چلو) صبح بھی لڑائی کرلو۔ چنانچہ صحابہ نے صبح قتال کیا تو انہی کو زخم پہنچ گئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم کل واپس روانہ ہوجائیں گے۔ تو یہ بات صحابہ کرام کو پسندآئی۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے۔