hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38107

.

ابن أبي شيبة

38107
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۰۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ انْصَرَفَ إِلَی الطَّائِفِ ، فَحَاصَرَہُمْ تِسْعَ عَشْرَۃَ ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَۃَ فَلَمْ یَفْتَتِحْہَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَۃً ، أَوْ غَدْوَۃً ، فَنَزَلَ ، ثُمَّ ہَجَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنِّی فَرَطٌ لَکُمْ ، فَأُوصِیکُمْ بِعِتْرَتِی خَیْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمَ الْحَوْضُ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَتُقِیمُنَّ الصَّلاَۃَ وَلتُؤْتُنَّ الزَّکَاۃَ ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَیْکُمْ رَجُلاً مِنِّی ، أَوْ کَنَفْسِی ، فَلَیَضْرِبَنَّ أعَنْاقَ مُقَاتِلَتِہِمْ وَلَیَسْبِیَنَّ ذَرَارِیَّہُمْ ، قَالَ : فَرَأَی النَّاسُ أَنَّہُ أَبُو بَکْرٍ ، أَوْ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : ہَذَا۔
(٣٨١٠٨) حضرت عبد الرحمن بن عوف روایت بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو فتح کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کی طرف چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا اٹھارہ یا انیس (دن) محاصرہ کیا لیکن طائف کو فتح نہ کرسکے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صبح یا ایک شام محاصرہ کو شدید کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت (ہی) چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تم سے پہلے (آگے) پہنچنے والا ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنی عزت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ اور یقین جانو کہ تمہارے ساتھ میرے وعدہ کی جگہ حوض ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ مں ے میری جان ہے تم لوگ نماز کو ضرور بالضرور قائم کرتے رہنا اور زکوۃ کو ضرور بالضرور ادا کرتے رہنا یا میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک اپنی طرح کا ایک آدمی بھیج دوں گا۔ جو اُن (اہل ایمان) سے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کے افراد کو قیدی بنا لائے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال یہ ہوا کہ یہ آدمی حضرت ابوبکر ہوں گے یا حضرت عمر ہوں گے۔ لیکن جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ آدمی یہ ہے۔