(۳۸۱۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفِ ، فَجَائَہُ أَصْحَابُہُ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِیفٍ ، فَادْعُ اللَّہَ عَلَیْہِمْ ، فَقَالَ : اللَّہُمَ اہْدِ ثَقِیفًا ، مَرَّتَیْنِ۔
قَالَ : وَجَائَتْہُ خَوْلَۃُ ، فَقَالَ : إِنِّی نُبِّئْتُ أَنَّ بِنْتَ خُزَاعَۃَ ذَاتُ حُلِیٍّ ، فَنَفِّلَنِّی حُلِیَّہَا إِنْ فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْک الطَّائِفَ غَدًا ، قَالَ : إِنْ لَمْ یَکُنْ أَذِنَ لَنَا فِی قِتَالِہِمْ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ ، نُرَاہُ عُمَرَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا مُقَامُک عَلَی قَوْمٍ لَمْ یُؤْذَنْ لَک فِی قِتَالِہِمْ ؟ قَالَ : فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ ، فَنَزَلَ الْجِعْرَانَۃَ، فَقَسَّمَ بِہَا غَنَائِمَ حُنَیْنٍ ، ثُمَّ دَخَلَ مِنْہَا بِعُمْرَۃٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
(٣٨١٠٩) حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔ دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو ؟ اس پر ایک آدمی نے ۔۔۔ ہمارے خیال میں حضرت عمر تھے ۔۔۔ کہا ۔۔۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آ کر) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی غنیمتوں کو تقسیم فرمایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہیں سے عمرہ کے لیے داخل ہوگئے پھر (عمرہ کے بعد) مدینہ منورہ چلے گئے۔