hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38147

.

ابن أبي شيبة

38147
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۴۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی ، عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ ہَوَازِنَ جَاؤُوا بَعْدَ الْوَقْعَۃِ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّا نَرْغَبُ فِی رَسُولِ اللہِ ، قَالَ : فِی أَیِّ ذَلِکَ تَرْغَبُونَ ، أَفِی الْحَسَبِ ، أَمْ فِی الْمَالِ؟ قَالُوا: بَلْ فِی الْحَسَبِ ، وَالأُمَّہَاتِ ، وَالْبَنَاتِ ، وَأَمَّا الْمَالُ فَسَیَرْزُقُنَا اللَّہُ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَرُدَّ مَا فِی یَدِی وَأَیْدِی بَنِی ہَاشِمٍ مِنْ عَوْرَتِکُمْ، وَأَمَّا النَّاسُ فَسَأَشْفَعُ لَکُمْ إِلَیْہِمْ إِذَا صَلَّیْتُ إِنْ شَائَ اللَّہُ، فَقُومُوا فَقُولُوا کَذَا وَکَذَا، فَعَلَّمَہُمْ مَا یَقُولُونَ، فَفَعَلُوا مَا أَمَرَہُمْ بِہِ، وَشَفَعَ لَہُمْ، فَلَمْ یَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ رَدَّ مَا فِی یَدَیْہِ مِنْ عَوْرَتِہِمْ، غَیْرَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ، أَمْسَکَا امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا فِی أَیْدِیہِمَا۔
(٣٨١٤٨) حضرت عبداللہ بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے بعد قبیلہ ہوازن کے کچھ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں آپ سے ایک رغبت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ” تمہاری رغبت کس چیز میں ہے۔ حسب (رشتہ داروں میں) یا مال میں “ انھوں نے جواب دیا (مال میں نہیں) بلکہ حسب میں، ماؤں میں اور بیٹیوں میں۔ رہا مال تو وہ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر دے دیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو کچھ میرے اور بنو ہاشم کے قبضہ میں موجود ہے وہ تو میں واپس کرتا ہوں اور باقی لوگوں سے میں تمہارے لیے سفارش کروں گا جب میں نماز پڑھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔ پس تم کھڑے ہوجانا اور یوں یوں کہنا۔ پس جو انھوں نے کہنا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہ سکھا دیا ۔ چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی سفارش فرمائی۔ چنانچہ جو کچھ عورتوں میں سے مسلمانوں کے قبضے میں موجود تھیں وہ سارا کچھ مسلمانوں نے واپس کردیا سوائے حضرت اقرع بن حابس کے اور عیینہ بن حصن کے ۔ جو عورتیں ان دونوں کے پاس تھیں انھوں نے انھیں اپنے پاس ہی رکھا۔