(۳۸۱۵۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ ، وَحَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ خَرَجُوا یَوْمَ حُنَیْنٍ یَنْظُرُونَ عَلَی مَنْ تَکُونُ الدَّبْرَۃُ ، فَمَرَّ بِہِمْ أَعْرَابِیٌّ، فَقَالُوا : یَا عَبْدَ اللہِ ، مَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : لاَ یَسْتَقْبِلُہَا مُحَمَّدٌ أَبَدًا ، قَالَ : وَذَلِکَ حِینَ تَفَرَّقَ عَنْہُ أَصْحَابُہُ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : لَرَبٌّ مِنْ قُرَیْشٍ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ رَبٍّ مِنِ الأَعْرَابِ ، یَا فُلاَنُ ، اذْہَبْ فَأْتِنَا بِالْخَبَرِ ، لِصَاحِبٍ لَہُمْ ، قَالَ : فَذَہَبَ حَتَّی کَانَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ الْقَوْمِ ، فَسَمِعَہُمْ یَقُولُونَ : یَا لَلأَوْس،ِ یَا لَلْخَزْرَجِ ، وَقَدْ عَلَوُا الْقَوْمَ ، وَکَانَ شِعَارُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(٣٨١٥١) حضرت عبداللہ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن ابو سفیان، حکیم بن حزام اور صفوان بن امیہ (اس ارادہ سے نکلے کہ) وہ دیکھیں کس کو شکست ہوتی ہے۔ (اس دوران) ان کے پاس سے ایک دیہاتی گزراتو انھوں نے پوچھا۔ اے عبداللہ ! لوگوں کا کیا بنا ؟ اس نے جواب دیا ۔ محمد کبھی بھی حنین سے آگے نہیں جاسکتا۔ راوی کہتے ہیں : یہ اس وقت کا تاثر تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متفرق ہوگئے تھے ۔۔۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ قریش میں سے کوئی رب (بڑا) بن جائے یہ بات ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی رب (بڑا) بنے۔ پھر آپس میں سے ایک سے کہا۔ اے فلاں ! جاؤ اور ہمارے پاس کوئی خبر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں؛ وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ قوم کے درمیان پہنچا تو اس نے انھیں یہ کہتے ہوئے سُنا۔ اے اوس، اے خزرج ! وہ لوگوں پر بلند ہوگئے۔ وہ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شعار تھا۔