hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38149

.

ابن أبي شيبة

38149
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : أَعْطَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَیْنٍ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ ، وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ ، فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یُعْطِی رَسُولُ اللہِ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُیُوفُنَا مِنْ دِمَائِہِمْ ، أَوْ سُیُوفُہُمْ مِنْ دِمَائِنَا ؟ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَجَاؤُوا ، فَقَالَ لَہُمْ : فِیکُمْ غَیْرُکُمْ ؟ قَالُوا : لاَ ، إِلاَّ ابْنُ أُخْتِنَا ، قَالَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْہُمْ ، فَقَالَ : قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ وَتَذْہَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَی دِیَارِکُمْ ؟ قَالُوا : بَلَی ، یَا رَسُولَ اللَّہ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالأَنْصَارُ شِعَارٌ ، الأَنْصَارُ کَرِشِی وَعَیْبَتِی ، وَلَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ۔
(٣٨١٥٠) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی غنائم میں سے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن کو بھی ایک سو اونٹ عطا فرمائے۔ انصار میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری (حاصل کردہ) غنائم ایسے لوگوں کو عطاء فرمائی ہیں جن کے (رشتہ داروں کے) خون سے ہماری تلواریں تر ہیں یا ان کی تلواریں ہمارے (رشتہ داروں کے) خون سے تر ہیں ؟ یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان انصار کی طرف قاصد بھیجا چنانچہ یہ تمام انصار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : کیا تم میں تمہارے (انصار کے) سوابھی کوئی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں ! لیکن ہمارے بھانجے (ہمارے ساتھ ہیں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قوم کے بھانجے بھی قوم کا حصہ ہیں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” تم لوگوں نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جاؤ ؟ “ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ والا کپڑا ہیں۔ انصار میرے مخلص دوست اور راز دار ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔