hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38160

.

ابن أبي شيبة

38160
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۶۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیُّ ، عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوکَ ، حَتَّی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرَی ، وَإِذَا امْرَأَۃٌ فِی حَدِیقَۃٍ لَہَا ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُخْرُصُوا ، قَالَ : فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ : احْصِی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا حَتَّی أَرْجِعَ إِلَیْک إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ تَبُوکَ ، فَقَالَ : إِنَّہَا سَتَہُبُّ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَۃَ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَلاَ یَقُومَنَّ فِیہَا رَجُلٌ ، فَمَنْ کَانَ لَہُ بَعِیرٌ فَلْیُوثِقْ عِقَالہُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ : فَعَقَلْنَاہَا ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ ہَبَّتْ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَقَامَ فِیہَا رَجُلٌ ، فَأَلْقَتْہُ فِی جَبَلَیْ طَیٍّ۔ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَلِکُ أَیْلَۃَ ، فَأَہْدَی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَغْلَۃً بَیْضَائَ، فَکَسَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِہِمْ۔ قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتَّی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرَی، فَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ: کَمْ حَدِیقَتُک؟ قَالَتْ: عَشَرَۃُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی مُتَعَجِّلٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ فَلْیَفْعَلْ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی إِذَا أَوْفَی عَلَی الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : ہَذِہِ طَابَۃُ ، فَلَمَّا رَأَی أُحُدًا ، قَالَ : ہَذَا جَبَلٌ ، یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔ (بخاری ۱۴۸۱۔ مسلم ۱۰۱۱)
(٣٨١٦١) حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا : ” (کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔ “ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت سے فرمایا : ” ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی ۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے ؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے “ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ پاکیزہ جگہ ہے “ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ” یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “