(۳۸۱۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُسْقُفَا نَجْرَانَ ؛ الْعَاقِبُ وَالسَّیِّدُ ، فَقَالاَ : ابْعَثْ مَعَنا رَجُلاً أَمِینًا ، حَقَّ أَمِینٍ، حَقَّ أَمِینٍ ، فَقَالَ : لأَبْعَثَنَّ مَعَکُمْ رَجُلاً حَقَّ أَمِینٍ ، فَاسْتَشْرَفَ لَہَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قُمْ یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَأَرْسَلَہُ مَعَہُمْ۔
(٣٨١٧٣) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا “ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو “ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔