(۳۸۱۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی نَجْرَانَ ، فَقَالُوا لِی : إِنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ : {یَا أُخْتَ ہَارُونَ} وَبَیْنَ مُوسَی وَعِیسَی مَا شَائَ اللَّہُ مِنَ السِّنِینَ ؟ فَلَمْ أَدْرِ مَا أُجِیبُہُمْ بِہِ ، حَتَّی رَجَعْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: أَلاَ أَخْبَرْتَہُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا یُسَمَّونَ بِأَنْبِیَائِہِمْ، وَالصَّالِحِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ ؟ (مسلم ۱۶۸۵۔ احمد ۲۵۲)
(٣٨١٧٤) حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے ؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم نے انھیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے “۔ ؟