hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38175

.

ابن أبي شيبة

38175
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ أَبُو بَکْرٍ فِی نَاحِیَۃِ الْمَدِینَۃِ ، فَجَائَ فَدَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُسَجًّی، فَوَضَعَ فَاہُ عَلَی جَبِینِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ یُقَبِّلُہُ وَیَبْکِی وَیَقُولُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا ، وَطِبْتَ مَیِّتًا ، فَلَمَّا خَرَجَ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ یَقُولُ : مَا مَاتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ یَمُوتُ حَتَّی یَقْتُلَ اللَّہُ الْمُنَافِقِینَ ، وَحَتَّی یُخْزِیَ اللَّہُ الْمُنَافِقِینَ ، قَالَ : وَکَانُوا قَدِ اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَفَعُوا رُؤُوسَہُمْ ، فَقَالَ : أَیُّہَا الرَّجُلُ ، اِرْبَعْ عَلَی نَفْسِکَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ قَدْ مَاتَ ، أَلَمْ تَسْمَعِ اللَّہَ یَقُولُ : {إِنَّک مَیِّتٌ ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ} وَقَالَ : {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ}۔ قَالَ : ثُمَّ أَتَی الْمِنْبَرَ فَصَعِدَہُ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ إِلَہَکُمُ الَّذِی تَعْبُدُونَ ، فَإِنَّ إلَہَکُمْ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَإِنْ کَانَ إِلَہَکُمُ الَّذِی فِی السَّمَائِ ، فَإِنَّ إِلَہَکُمْ لَمْ یَمُتْ ، ثُمَّ تَلاَ : {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ وَاشْتَدَّ فَرَحُہُمْ ، وَأَخَذَتِ الْمُنَافِقِینَ الْکَآبَۃُ۔ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَکَأَنَّمَا کَانَتْ عَلَی وُجُوہِنَا أَغْطِیَۃٌ ، فَکُشِفَتْ۔ (بزار ۸۵۲)
(٣٨١٧٦) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح مبارک قبض ہوئی تو (اس وقت) حضرت ابوبکر ، مدینہ کے گوشہ میں تھے پھر آپ تشریف لائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھکا ہوا تھا۔ اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ دے کر رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور مر کر بھی خوشبودار ہیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر (وہاں سے) نکلے تو ان کا گزر عمر بن خطاب سے ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسول کو موت نہیں آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موت نہیں آئے گی حتی کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو موت دے دے اور یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو رسوا کر دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے (منافقین نے) خوشی محسوس کی تھی چنانچہ انھوں نے اپنے سر اٹھا لیے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے آدمی ! ٹھہرو (ذرا چپ کرو) کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا۔ {إِنَّک مَیِّتٌ ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } اور ارشاد خداوندی ہے۔ { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ }۔
پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو ! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ } ۔
یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔