hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38177

.

ابن أبي شيبة

38177
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : کُنْتُ بِالْیَمَنِ ، فَلَقِیت رَجُلَیْنِ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ ذَا کَلاَعٍ وَذَا عَمْرٍو ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالاَ : إِنْ کَانَ حَقًّا مَا تَقُولُ ، فَقَدْ مَرَّ صَاحِبُک عَلَی أَجَلِہِ مُنْذُ ثَلاَثٍ ، فَأَقْبَلْتُ وَأَقْبَلاَ مَعِیَ ، حَتَّی إِذَا کُنَّا فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ ، رُفِعَ لَنَا رَکْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ ، فَسَأَلْنَاہُمْ ، فَقَالُوا : قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ ، وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ، قَالَ : فَقَالاَ لِی : أَخْبِرْ صَاحِبَک أَنَّا قَدْ جِئْنَا ، وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ، وَرَجَعَا إِلَی الْیَمَنِ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَکْرٍ بِحَدِیثِہِمْ ، قَالَ : أَفَلاَ جِئْتَ بِہِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ ، قَالَ لِی ذُو عَمْرٍو : یَا جَرِیرُ ، إِنَّ بِکَ عَلَیَّ کَرَامَۃً ، وَإِنِّی مُخْبِرُک خَبَرًا ، إِنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَیْرٍ مَا کُنْتُمْ ، إِذَا ہَلَکَ أَمِیرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِی آخَرَ ، فَإِذَا کَانَتْ بِالسَّیْفِ کَانُوا مُلُوکًا یَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوکِ ، وَیَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوکِ۔ (بخاری ۴۳۵۹۔ احمد ۳۶۳)
(٣٨١٧٨) حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چنانچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انھوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر ) کو بتا دینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انھوں نے فرمایا : تم انھیں لے کر کیوں نہ آئے۔ ! ! !
راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر ! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں ۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔