(۳۸۱۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : غَسَّلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَأُسَامَۃُ۔
قَالَ : وَحَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ۔
قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : مِنْ یَلِی الْمَیِّتَ إِلاَّ أَہْلُہُ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ : وَجَعَلَ عَلِیٌّ یَقُولُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا وَمَیِّتًا۔
(٣٨١٨٦) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ نے غسل دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت شعبی ارشاد فرماتے ہیں : متَ کے ولی اس کے اہل ہی ہوتے ہیں۔ ابو ادریس کی حدیث میں ابن ابی خالد کے حوالہ سے نقل ہے کہ حضرت علی کہنے لگے۔ میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی میں بھی خوشبو دار تھے اور موت کے بعد بھی خوشبودار ہیں۔