hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38205

.

ابن أبي شيبة

38205
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی زُرَیْقٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْیَوْمُ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ حَتَّی أَتَیَا الأَنْصَارَ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا لاَ نُنْکِرُ حَقَّکُمْ ، وَلاَ یُنْکِرُ حَقَّکُمْ مُؤْمِنٌ ، وَإِنَّا وَاللہِ مَا أَصَبْنَا خَیْرًا إِلاَّ مَا شَارَکْتُمُونَا فِیہِ ، وَلَکِنْ لاَ تَرْضَی الْعَرَبُ وَلاَ تُقِرُّ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، لأَنَّہُمْ أَفْصَحُ النَّاسِ أَلْسِنَۃً ، وَأَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوہًا ، وَأَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا ، وَأَکْثَرُ النَّاسِ شُِجِنۃً فِی الْعَرَبِ ، فَہَلُمُّوا إِلَی عُمَرَ فَبَایِعُوہُ ، قَالَ : فَقَالُوا : لاَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ ؟ فَقَالُوا : نَخَافُ الأَثَرَۃَ ، قَالَ عُمَرُ : أَمَّا مَا عِشْتُ فَلاَ ، قَالَ : فَبَایِعُوا أَبَا بَکْرٍ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ : أَنْتَ أَقْوَی مِنِّی ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّی ، فَقَالاَہَا الثَّانِیَۃَ ، فَلَمَّا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ ، قَالَ لَہُ عُمَرُ : إِنَّ قُوَّتِی لَک مَعَ فَضْلِکَ ، قَالَ : فَبَایَعُوا أَبَا بَکْرٍ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَتَی النَّاسُ عِنْدَ بَیْعَۃِ أَبِی بَکْرٍ أَبَا عبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَ : أَتَأْتُونِی وَفِیکُمْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، یَعَنْی أَبَا بَکْرٍ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَقُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : مَنْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، قَالَ : قَوْلُ اللہِ : {ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ}۔
(٣٨٢٠٦) بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار ! یقیناً ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم ! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں ۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے کہا : نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا : کیوں ؟ انصار نے جواب دیا ۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہرحال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔
٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً ) فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقیناً میری قوت بھی آپ کے لیے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چنانچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔
٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر ۔
٤۔ ابن عون کہتے ہیں : میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔