(۳۸۲۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا حُضِرَ ، قَالَ : اُدْعُوا لِی عَلِیًّا ، وَطَلْحَۃَ ، وَالزُّبَیْرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدًا ، قَالَ : فَلَمْ یُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ إِلاَّ عَلِیًّا ، وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : یَا عَلِیُّ ، لَعَلَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ یَعْرِفُونَ لَکَ قَرَابَتَکَ ، وَمَا آتَاک اللَّہُ مِنَ الْعِلْمِ وَالْفِقْہِ ، فَاتَّقِ اللَّہَ ، وَإِنْ وُلِّیتَ ہَذَا الأَمْرَ فَلاَ تَرْفَعْنَ بَنِی فُلاَنٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، وَقَالَ لِعُثْمَانَ : یَا عُثْمَان ، إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ لَعَلَّہُمْ یَعْرِفُونَ لَک صِہْرَک مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسِنَّک ، وَشَرَفَک ، فَإِنْ أَنْتَ وُلِّیتَ ہَذَا الأَمْرَ فَاتَّقِ اللَّہَ ، وَلاَ تَرْفَعْ بَنِی فُلاَنٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، فَقَالَ : اُدْعُوا لِی صُہَیْبًا ، فَقَالَ : صَلِّ بِالنَّاسِ ثَلاَثًا ، وَلْیَجْتَمِعْ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطُ فَلِیَخْلُوا ، فَإِنْ أَجْمَعُوا عَلَی رَجُلٍ ، فَاضْرِبُوا رَأْسَ مَنْ خَالَفَہُمْ۔
(٣٨٢١٥) حضرت عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کی موت کا وقت جب قریب ہوا تو آپ نے فرمایا۔ حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عثمان ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے (ان میں سے) صرف حضرت علی اور حضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چنانچہ آپ نے کہا۔ اے علی ! شاید یہ لوگ تمہارے بارے میں قرابت (نبوی) کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم اور فقہ عطاء کی ہے اس کو پہچانیں۔ پس تم اللہ سے ڈرنا۔ اور اگر تمہیں اس کام (خلافت) کی سپردگی ہوجائے تو تم بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا (یعنی برتری نہ دینا) ور حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اے عثمان ! شاید یہ لوگ تمہارا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دامادی کا رشتہ، اور تمہاری عمر اور تمہاری شرافت کو پہچانیں۔ پس اگر تم اس امر (خلافت) کے متولی ٹھہرے تو اللہ سے ڈرنا اور بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ حضرت صہیب کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے (انہیں) کہا۔ تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ ان (مذکورہ بالا) افراد کو چاہیے کہ اکٹھے ہوں اور خلوت میں (کوئی فیصلہ) کریں۔ پھر اگر یہ لوگ کسی ایک آدمی پر اکٹھے ہوجائیں تو اس کی مخالفت کرنے والے کا سر مار دو ۔