hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38217

.

ابن أبي شيبة

38217
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ ، عَنْ جَارِیَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ السَّعْدِیِّ ، قَالَ : حجَجْتُ الْعَامَ الَّذِی أُصِیبَ فِیہِ عُمَرُ ، قَالَ : فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنِّی رَأَیْتُ أَنَّ دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ لَمْ تَکُنْ إِلاَّ جُمُعَۃٌ ، أَوْ نَحْوَہَا حَتَّی أُصِیبَ ، قَالَ : فَأُذِنَ لأَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الشَّامِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَکُنَّا آخِرَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ ، وَبَطْنُہُ مَعْصُوبٌ بِبُرْدٍ أَسْوَدَ ، وَالدِّمَائُ تَسِیلُ ، کُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ بَکَوْا وَأَثْنَوْا عَلَیْہِ ، فَقُلْنَا لَہُ : أَوْصِنَا ، وَمَا سَأَلَہُ الْوَصِیَّۃَ أَحَدٌ غَیْرَنَا، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللہِ ، فَإِنَّکُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوہُ ، وَأُوصِیکُمْ بِالْمُہَاجِرِینَ ، فَإِنَّ النَّاسَ یَکْثُرُونَ وَیَقِلُّونَ ، وَأُوصِیکُمْ بِالأَنْصَارِ ، فَإِنَّہُمْ شِعَبُ الإِیمَانِ الَّذِی لَجَأَ إِلَیْہِ ، وَأُوصِیکُمْ بِالأَعْرَابِ فَإِنَّہَا أَصْلُکُمْ وَمَادَّتُکُمْ ، وَأُوصِیکُمْ بِذِمَّتِکُمْ ، فَإِنَّہَا ذِمَّۃُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرِزْقُ عِیَالِکُمْ ، قُومُوا عَنِّی ، فَمَا زَادَنَا عَلَی ہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔
(٣٨٢١٨) حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا ۔ بیان کرتے ہیں کہ ۔۔۔ حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : پس (پہلے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا ۔۔۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔