(۳۸۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ ، مَاجَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ فِی بَعْضٍ ، حَتَّی کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَنَادَی مُنَادٍ : الصَّلاَۃُ ، فَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّی بِہِمْ ، فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَیْنِ فِی الْقُرْآنِ : {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ} ، وَ : {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ} ، فَلَمَّا أَصْبَحَ دَخَلَ عَلَیْہِ الطَّبِیبُ ، وَجُرْحُہُ یَسِیلُ دَمًا ، فَقَالَ : أَیُّ الشَّرَابِ أَحَبُّ إِلَیْک ؟ قَالَ : النَّبِیُّذُ ، فَدَعَا بِنَبِیذٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَقَالَ : ہَذَا صَدِیدٌ ، ائْتُونِی بِلَبَنٍ ، فَأُتِیَ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَقَالَ لَہُ الطَّبِیبُ : أَوْصِہِ ، فَإِنِّی لاَ أَظُنُّک إِلاَّ مَیِّتًا مِنْ یَوْمِکَ ، أَوْ مِنْ غَدٍ۔
(٣٨٢١٩) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو سب لوگ مضطرب ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا ۔ تو ایک آواز دینے والے نے ندا دی۔ نماز ! چنانچہ لوگوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو آگے کردیا۔ پس انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور قرآن مجید کی دو مختصر سورتیں یعنی {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } اور {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ } کو پڑھا۔ پھر جب دن نکل آیا تو ایک طبیب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عمر کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ طبیب نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبیذ چنانچہ نبیذ منگوایا اور اس کو حضرت عمر نے پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل آیا ۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خون ملی پیپ ہے۔ تم میرے پاس دودھ لاؤ۔ چنانچہ دودھ لایا گیا آپ نے دودھ نوش فرمایا تو وہ بھی زخموں سے باہر نکل آیا ۔ اس پر طبیب نے آپ سے کہا۔ کوئی وصیت کرلو۔ کیونکہ میرے خیال میں آپ ایک یا دو دن میں فوت ہوجائیں گے۔