(۳۸۲۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَدَعُ الصَّفَّ الأَوَّلَ ہَیْبَۃً لِعُمَرَ ، وَکُنْتُ فِی الصَّفِّ الثَّانِی یَوْمَ أُصِیبَ ، فَجَائَ ، فَقَالَ : الصَّلاَۃُ عِبَادَ اللہِ ، اسْتَوُوا ، قَالَ : فَصَلَّی بِنَا ، فَطَعَنَہُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ طَعْنَتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ : وَعَلَی عُمَرَ ثَوْبٌ أَصْفَرُ ، قَالَ : فَجَمَعَہُ عَلَی صَدْرِہِ ، ثُمَّ أَہْوَی ، وَہُوَ یَقُولُ : {وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا} فَقَتَلَ وَطَعَنَ اثْنَیْ عَشَرَ ، أَوْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ، قَالَ : وَمَالَ النَّاسُ عَلَیْہِ ، فَاتَّکَأَ عَلَی خِنْجَرِہِ فَقَتَلَ نَفْسَہُ۔ (ابن سعد ۳۴۸)
(٣٨٢٢٣) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کی ہیبت کی وجہ سے پہلی صف کو چھوڑ دیتا تھا۔ جس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اس دن میں دوسری صف میں تھا۔ حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا۔ اے بندگانِ خدا ! نماز، (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی۔ کہ ابو لؤلؤ نے آپ پر دو یا تین وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے زرد کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کپڑے کو اپنے سینے کی طرف اکٹھا کرلیا پھر آپ نے اشارہ کیا اور آپ فرما رہے تھے۔ { وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا }
پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔