(۳۸۲۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ : ثُمَّامَۃُ کَانَ عَلَی صَنْعَائَ ، فَلَمَّا جَائَہُ قَتْلُ عُثْمَانَ بَکَی ، فَأَطَالَ الْبُکَائَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : الْیَوْمَ اُنْتُزِعَتِ النُّبُوَّۃُ ، أَوَ قَالَ : الْخِلاَفَۃُ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَصَارَتْ مِلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، فَمَنْ غَلَبَ عَلَی شَیْئٍ أَکَلَہُ۔
(٣٨٢٤٤) حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا وہ مقام صنعاء میں تھا۔ جب اس کو حضرت عثمان کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ رو پڑا اور خوب دیر تک روتا رہا۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو اس نے کہا۔ آج کے دن امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبوت واپس لے لی گئی ہے۔ خلافت واپس لے لی گئی ہے۔ اور (اب) بادشاہی اور سختی ہوگی۔ پس جو جس چیز پر غالب ہوگا اس کو کھاجائے گا۔